محبت کا انجام

قسط نمبر 1۔
میرا نام عمار ہے ۔ میں ایک شہر میں پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔ میں نے ایک گھر کے اوپر والا کمرہ کراۓ پر لیا ہے۔ میری عمر 17 سال ہے۔ میں 11th کلاس میں پڑھتا ہوں۔ میں اپنے حساب سے تھوڑا سا شرارتی ہوں۔ اور پڑھنے کے معاملے میں بھی تھوڑا سا اچھا ہوں۔ میں نے اب پڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آج میرا کالج میں پہلا دن ہے۔ میں جلدی سے اٹھا اور اپنے آپ کو پہلے تازہ دم کیا میں نے جلدی سے کالج کی وردی پہنی۔ چاۓ بنائی۔ اسے آرام سے گھٹک گیا ۔ میں نے پہلے رات میں ہی اپنا کھانا بنا کر رکھا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ میں صبح لیٹ بیدار ہوں گا۔

کیونکہ میں رات کو دیر تک جاگتا ہو ۔ اور کہانیاں لکھ لکھ کر فیس بک پر سب کو تنگ کرتا ہوں۔میں نے کھانا کھایا بیگ اٹھایا گھر کے باہر گیا بائک کو چالو کیا اور کالج کی طرف روانہ ہو گیا۔ مجھے تھوڑی گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی۔ لیکن کالج کے جب مزے یاد کرتا تھا۔ تو مجھ میں جوش آجاتا تھا۔مجھے گھر والوں نے بتایا تھا ۔ کہ کالج میں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔ لیکن گھر والوں نے کہا تھا کہ کالج کی لڑکیاں بہت گندی ہوتی ہیں۔ ان سے تم دور ہی رہنا ورنہ وہ تم کو لوٹ بھی لیں گی اور بعد میں اپنے boyfriendسے تمہاری دھلائی بھی کرا دیں گی۔ لیکن مجھے ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ میں نے پورے 10 سال محنت کی تھی کالج میں آنے کے لیے میں کالج گیا اپنی بائک کالج کے اندر سٹینڑ پر کھڑی کی سکیورٹی گارڈ نے مجھے چیک کیا اور ایک پرچی دی میں نے پرچی لی تو اس پر میری بائک کا نمبر اور سکیورٹی گارڈ کے دستخط تھے ۔ میں نے گاڑی سے کالج لگنے کا ٹائم پوچھا اس نے کہا 9 بجے ۔ میرا کالج 9 بجے لگنا تھا۔ ابھی 8:42 بجے تھے۔ میں نے سب سے پہلے اپنی کلاس دیکھنے کا سوچا میں ایک لڑکے کے پاس گیا اور اس سے میں نے ics کا کمرہ پوچھا اس نے کہا نیو ایڈیشن میں نے ہاں میں سر ہلایا۔

وہ تھوڑا سا مسکرایہ اس نے کہا فزکس کے ساتھ یا اکنامکس کے میں نے کہا فزکس اس نے کہا کمرہ نمبر چھ میں چلے جاؤ۔ میں نے کہا بہت شکریہ میں آگے کی طرف چلنے لگا پھر مجھے یاد آیا کہ میں خوشی خوشی میں اس سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ کمرہ نمبر چھ کہاں ہے۔ میں ایک بلڈنگ میں خودا کا نام لے کر گھس گیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ کچھ سیڑھیاں اوپر کی جانب جا رہی ہیں۔ میں بھی اوپر کی جانب جانے لگا جب میں اوپر پہنچا تو وہاں دو راستے تھے ایک دائیں اور ایک بائیں طرف۔ میں نے کہا دایا ہاتھ اچھی قسمت ہے۔ میں بنا سوچے اندر جانے لگا۔میری محبوبہ😘💃
قسط نمبر 2

میں بنا سوچے اندر جانے لگا۔ اس راستے کے دونوں طرف کمرے تھے جن پر لڑکیوں کی تصویر لگی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک کمرہ کھلا ہوا ہے۔ تو میں نے اندر جانے کی کوشش کی۔ لیکن جب میں نے دروازے کو ہاتھ لگایا تو میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ میں ڈر گیا۔ اس نے مجھے دو تین گالیاں دیتے ہوۓ کہا تم یہاں لڑکیوں کے کیمپ میں کیا کر رہے ۔ ہو تم کو کسی نے یہاں بلایا ہے کیا۔ میں نے کہا نہیں تو اس نے مجھے اٹھا کر ان سیڑھیوں پر کھڑا کر دیا ۔ جب میں نے پیچھے دیکھا تو ایک بڑے قد کا گارڈ تھا۔ اس کا رنگ تھوڑا سیاہ تھا۔ اس نے مجھے غصے سے کہا اگر تم مجھے یہاں دوبارہ نظر آۓ تو میں تمہاری ہڈیاں توڑ ڈالو گا ۔ میں وہاں سے دوڑ لگا کر نیچے آیا میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ میں نے کہا حبشی کہی کا نا ہو تو مجھے ہاتھ لگایا ۔ میں نے پورے پیسے دیے ہیں بھونڈی کرنے کے۔ میں نے کہا چلو چھوڑو اس بات کو ۔ میرے سامنے ایک لڑکا کھڑا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا بھائی کمرہ نمبر چھ کہاں ہے۔ اس نے مجھ سے کہا چلو میرے ساتھ میں بھی وہیں جانے والا تھا۔ میں اس کے ساتھ چلنے لگا وہ پیچھے والے دروازے سے مجھے باہر لے گیا ۔

جب میں پیچھے والے دروازے سے باہر نکلا تو مجھے سامنے ایک اور بلڈنگ دیکھائی دی۔ اس نے کہا میرا نام مزمل ہے۔ میں نے ری ایڈیشن کرایا ہے۔ اور تمہارا کیا نام ہے۔ میں نے کہا عمار۔ اس نے کہا اچھا نام ہے آ مار یہ تو ایسے لگ رہا ہے کہ تم کسی کو لڑنے کا کہ رہے ہو۔ میں تھوڑا سا ہنسا اس نے کہا چلو اب ہمارے پہلے لیکچر کا وقت ہو چکا ہے ۔ میں اس کے ساتھ چل دیا۔ ہم ایک کمرے میں پہنچے تو تو میں نے دیکھا کہ وہاں صرف لڑکے ہیں۔ لڑکیوں کا تو نام ونشان بھی نہیں تھا۔ میں دل ہی دل میں بہت مایوس ہو گیا۔ میں اس کے ساتھ ایک بینچ پر جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے مجھے جب بتایا کہ ہمارا پہلا لیکچر ایک میڈم کے پاس ہے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ میں نے دل میں سوچا کوئی گورے رنگ والی پتلی سی لڑکی ہوگی ۔ گھنٹی بجی ایک پتلی کمر والی نوجوان لڑکی کمرے میں داخل ہوئی ۔ اس کے بازو میں ایک بیگ تھا۔ میں دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔ پر پھر بعد میں میں نے کچھ ایسا دیکھا کہ میری خوشی کہیں جٹ پٹ میں گم ہو گئی۔ میں نے دیکھا کہ اس میڈیم کا رنگ بلیک تھا۔ اس نے منہ پر کالے رنگ کا ماسک لگا رکھا تھا۔ اس نے کہا بچو اسلام علیکم۔ ہم سب نے اسلام کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا بچو آج آپ کا یہاں پہلا دن ہے۔ اس لیے آج میں آپ کو کام نہیں دو گی ۔ آج ہم اپنا تعارف کروائیں گے۔ میڈم نے کہا۔ میرا نام شازیہ ہے ۔ اور میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں چیچہ وطنی میں رہتی ہوں ۔ اب آپ اپنا ایک ایک تعارف کروائیں ۔ہم سب نے باری باری اپنا تعارف کروایا۔

انہوں نے کہا ہماری کلاس میں دو لڑکوں کے نام عمار ہے۔ میڈم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ایک یہ اور دوسری لائن میں ایک لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ کل سے آپ کے ساتھ آپ کی آپیاں بھی بیٹھیں گی۔ میں نے کہا چلو کچھ تو میرے دل کی بات ہوئی۔ اسی طرح باقی اساتذہ نے بھی اپنا لیکچر دے کر ہمیں ۔ فارغ کر دیا ۔ میں نے مزمل کو خدا حافظ کیا۔ اور اپنی بائک کے پاس گیا سکیورٹی گارڈ کو اس کی پرچی واپس کی ۔ اور اپنی بائک لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اگلے دن پھر میں کالج حاضر ہوا میں آج بہت جوش میں تھا۔ کہ آج میرے ساتھ لڑکیاں بیٹھیں گی۔ میں بائک کھڑی کر کے کمرہ نمبر چھ میں گیا۔ کچھ دیر بعد میڈم اگئ میڈم نے کہا ایک بینچ پر ایک بچہ بیٹھے ہم سب ایک ایک ہو گئے۔ پھر میڈم نے کہا اب آپ کے ساتھ کچھ لڑکیاں بیٹھیں گی۔ میڈم نے ایک ایک لڑکی کا نام لینا شروع کیا۔ ایک لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ بیٹھا دی اور میرے ساتھ بھی ایک لڑکی بیٹھ گئی۔ سب نے کالج کی وردی پہنی تھی۔ بس تین لڑکیاں بُرکھے میں تھیں۔ میرے ساتھ بیٹھی لڑکی نے میرا نام پوچھا مجھے تھوڑا عجیب لگا ۔ کہ کوئی لڑکی مجھ سے میرا نام پوچھ رہی ہے۔ میں نے اس کہا ۔ عمار میں نے موقع اچھا دیکھ کر کہا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ اس نے کہا نور میں نے کہا بہت اچھا نام ہے۔ پھر میڈم نے کہا سب اپنی اپنی انگلش کی کتاب کھولیں ہم سب نے کتاب نکال لی میڈم نے کہا پہلا سبق نکال لیں ۔ ہم سب نے نکال لیا ۔ میڈم نے کہا یہ سبق ہے ۔ بٹن بٹن یہ ایک لالچی عورت اور ایک اچھے انسان پر ہے ۔ کہ کیسے ایک لالچی عورت پیسے کی خاطر کسی انجان آدمی کی جان تک لینے کو تیار تھی ۔ بچو آپ میں سے کوئی ایک اس کی ریڈنگ شروع کرے۔ ایک برکھے والی لڑکی کھڑی ہو گئی۔ وہ سر سے لے کر پاؤں تک برکھے میں تھی۔ اس کی آنکھیں کسی ستارے کی طرح تھی۔ بہت پیاری بہت خوبصورت ۔ جب اس نے پڑھنا شروع کیا ۔ تو مجھے اس کی آواز کسی میٹھے جام ، شہد ، کھجور، کی طرح لگی۔ میں اس کی آواز سن کر مدہوش ہو رہا تھا۔ اس کی پیاری پیاری آنکھیں اور میٹھی میٹھی آواز میرے دل میں گھر کی بجائے محل کر چکی تھی۔

مجھے اب یہ حسرت ہونے لگی تھی کہ میں اس کا تھوڑا سا چہرہ دیکھ لو میرا دل بے قرار ہو رہا تھا۔ میرے دل میں سونگ چلنے شروع ہو گۓ تھے۔ کہ تو ہی میری پہلی چاہت تو ہی آخری ہے ۔میڈم ہم سب کو پڑھا رہی تھی۔ لیکن میرے ذہن میں بس اس حجاب والی لڑکی کا ہی خیال تھا۔ میڈم نے اپنا لیکچر ختم کیا اور کہا اللہ حافظ۔ میں نے دل میں کہا آپ کا بھی اور میرا بھی۔
میری محبوبہ
قسط نمبر 3۔

پھر اُردو کا لیکچر تھا۔ سر ہماری کلاس میں تشریف لائے جو بہت ہی دبلے پتلے تھے۔ ہم سب نے کھڑے ہو کر سر کو اسلام کیا سر نے ہمارے اسلام کا جواب دیا۔ شکل سے کافی شریف دیکھائی دیتے تھے۔ بس ان کا سٹائل تھوڑا عجیب تھا۔ جیسے کوئی سر نہیں ہمیں کوئی میڈم پڑھانے آئی ہو۔ انہوں نے کہا میرا نام اعجاز ہے ۔لڑکوں کو کل میں نے اپنے بارے میں بتایا تھا۔ میں ایک سادہ سا انسان ہوں۔ میں شعر و شاعری بھی کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید اپنے بارے میں بتایا کہ میں بھی کبھی آپ کی طرح بچہ ہوا کرتا تھا۔ میں بہت شرارتی تھا۔ ہمارے ایک استاد تھے۔ جو بہت سخت تھے ۔ لیکن وہ جن پریت اور کالے جادو کو بہت مانتے تھے۔ ایک دفعہ ہمارا بہت مشکل ٹیسٹ تھا۔ ہم میں سے کسی کو ٹیسٹ اچھی طرح یاد نہیں تھا۔ اور استاد جی نے ہمارے لیے ایک ڈنڈھ جسے ہم اسپیشل پروٹوکول کہتے تھے۔ تیار کیا تھا۔ ہم نے مار سے بچنے کے لیے ایک پلین بنایا ہم نے ایک گڑا لیا اور اس پر بہت سارے کانٹے لگا دیے اور تھوڑا سا مرغے کا خون ڈال کر ٹیسٹ والے دن استاد کی کرسی کے نیچے رکھ دیا

۔استاد جی وہاں اے اور کرسی بیٹھ گئے۔ جب وہ اٹھ کر ٹیسٹ دینے لگے تو ان کو کرسی کے نیچے پڑا گڈا نظر آگیا وہ بہت زیادہ بوکھلا گۓ ۔ پھر اس دن سے وہ تھوڑے گھبراہٹ میں رہنے لگے۔ جب ہم نے ان کی پاگلوں جیسی حالت دیکھی تو ہمیں بہت دوکھ ہوا لیکن آج تک ہم ان کو یہ تک نہیں بتا سکے کہ وہ شرارت ہم نے کی تھی۔ اس سے ہم سب کو سبق ملا کہ ہمارا ایک چھوٹا سا مزاک کسی کی زندگی خراب کر سکتا ۔ کلاس میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔ سب کی آنکھیں نم تھی۔ پھر سر نے ہمیں کام دیا اور کہا کہ مجھے یہ کام کل ہر حالت میں چاہیے۔ اور میں پہلے بتا دو کہ میں جنات وغیرہ پر یقین نہیں رکھتا۔ سر نے کہا خدا حافظ۔ اور اپنا رجیسٹر لے کر روانہ ہو گئے۔ مجھے سر کی باتوں نے بہت متاثر کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.