دودھ ملے گا اب 49 روپے فی لیٹر

ملک بھر میں دودھ پیٹرول سے بھی مہنگا فروخت ہورہا ہے، حکومتی نرخ مقرر کئے جانے کے باوجود کیٹل اور ڈیری فارمز اپنی من مانی قیمتوں پر دودھ فروخت کررہے ہیں۔ کہیں دودھ 150 روپے فی لیٹر تو کہیں 170 روپے تک فروخت ہورہا ہے۔

جبکہ دودھ کی قیمتوں میں ابھی مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایک طرف جہاں پاکستان میں ڈیری فارمرز فرعون بنے ہوئے ہیں اور حکومت احکامات کی دھجیاں اڑئی جارہی ہیں، وہیں بھارت میں اب دودھ 49 بھارتی روپے (پاکستانی 117 روپے) فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔

ویسے تو بھارتی ڈیری کمپنی امول کے بعد اب مدر ڈیری نے بھی دودھ کے دام بڑھائے ہیں۔ لیکن اس سے صارفین پر بوجھ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

مدر ڈیری کے الگ الگ دودھ کے ویریئنٹ میں دو روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب مدر ڈیری کا دودھ خریدنے پر صارفین کو دو روپے اور زیادہ دینے ہوں گے۔

کمپنی نے بتایا کہ لاگت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ مدر ڈیری نے دودھ کمپنی امول کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کے کچھ دن بعد دام بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے پہلے امول نے ملک بھر میں یکم مارچ 2022 سے دودھ کے دام دو روپے فی لیٹر تک بڑھائے تھے۔

مدر ڈیری کے دودھ کی قیمتیں برھانے کے بعد چھ مارچ سے ٹونڈ دودھ 49 روپے فی لیٹر ملے گا، جبکہ پہلے اس کی قیمت 47 روپے تھی۔

ڈبل ٹونڈ دودھ کی قیمت 41 روپے سے بڑھ کر 43 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جبکہ فل کریم دودھ کی قیمت 57 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 59 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔

اسی طرح مدر ڈیری کے بوتھ پر ملنے والے ٹونڈ دودھ کی قیمت 44 روپے کی جگہ 46 روپے فی لیٹر ہوگی۔ مدر ڈیری کے گائے کے دودھ کی قیمت 49 روپے سے بڑھ کر 51 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔

بڑھی ہوئی قیمتوں کے بعد آدھا لیٹر سپر ٹی دودھ کی قیمت 26 روپے کی جگہ 27 روپے ہوگئی ہے۔ آدھا لیٹر کی پیکنگ والے فل کریم دودھ کے لیے قیمت 39 روپے، ٹونڈ کے لیے 25 روپے، ڈبل ٹونڈ کے لیے 22 روپے اور گائے کے دودھ کے لیے 26 بھارتی

Add comment

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

Your Header Sidebar area is currently empty. Hurry up and add some widgets.