دماغ تیز کرنے کا زبردست وظیفہ

آج ہم آپکو ایک ایسا وظیفہ بتانے جارہے ہیں جس سے آپکا دماغ کمپیوٹر سے بھی تیز چلنے لگے گا۔بہت سارے ایسے بچے ہوتے ہیں جن کو بھولنے کی عادت ہوتی ہے کچھ بھی یا د نہیں رہتا۔ان کے والدین یا وہ خود ہی مٹھائی پر یا کھانے پر یہ دم کرکے کھائیں انشاءللہ دماغ بہت تیز ہوجائے گا۔

ایک مرتبہ سید نا علیؓ مسجد میں تشریف فرما تھےایک ساعل آیا اور عرض کرنے لگااے امیر المومنین میں باتوں کو بھول جاتا ہوں۔میرا دماغ تیز نہیں یہاں تک کے قرآن پاک بھی یاد کرنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔کوئی ایسا عمل یا وظیفہ بتائیں کہ جس سے میرا دماغ تیز ہومیری یا داشت تیز ہو۔تو حضرت علیؓ نے اس سے کہا کہ تم جو بھی رزقِ حلال کھاﺅ اس پر ایک مرتبہ یا علیمُ یا اللہ کے ورد کا دم کرکے اس پہ کھاﺅ اللہ کے کرم سے تمہارا دماغ تیز ہوجائےگا۔
اورفجر کی نماز کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کے یا علیمُ یا اللہ کا ورد کرکے دعا کرو انشائاللہ تم باتوں کو کبھی بھی نہیں بھولو گے۔اور اس کے بعد اس ساعل نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد جب حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے حضرت علیؓ آپ نے جو وظیفہ بتایا تھا اس کی مدد سے الحمداللہ میرا دماغ کافی تیز ہوچکا ہے اور مجھے بھولنے کی بیماری بالکل ختم ہوچکی ہےاب ہم آپکو وہ وظیفہ بتاتے ہیں۔اگر آپ نے اپنے لئے یا اپنے بچوں کے لئے کرنا ہے تو آپ دس دن کا ٹائم پیریڈ رکھیں تو آپ نے دن کے کسی بھی وقت یاعلیمُ یااللہ کو 33مرتبہ پڑھ کے اس کے اول و آخر میں جھ جھ دفعہ درود شریف پڑھ کے کسی بھی مٹھائی پہ دم کرنا ہے ۔اگر آپ نے ایک ہی دن میں کرنا ہے تو آپ دس دنوں کے حساب سے 330مرتبہ پڑھنا ہےاول وآخر چھ چھ مرتبہ درود شریف پڑھ کے کسی بھی مٹھائی یا بادام کسی بھی چیز پر دم کرنا ہے

اور رات کو سوتے ہوئے اور صبح اٹھتے ہوئے ایک ایک اپنے بچے کو کھلا دیں۔دس دن تک آپ اپنے بچے کو دیں انشاءاللہ اس کا دماغ کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیزہوجائے گااہرین متقق ہیں کہ ورزش سے دماغ فروغ پاتا ہے اور اس سے دماغی خلیات بڑھنے لگتے ہیں اور نیورون کے راستے بہتر ہونے لگتے ہیں، اس طرح دماغ لچکدار ہوتا جاتا ہے اور اس کی تمام صلاحیتیں اچھی ہونے لگتی ہیں۔دماغ کے پٹھوں کی ورزش: جسم کے دیگر اعضا اور پٹھوں (مسلز) کی طرح بھی دماغ کو استعمال نہ کیا جائے تو یہ کمزور پڑنے لگتا ہے اسی لیے دماغ کو تندرست رکھنے کے لیے دماغی ورزش ضروری ہے۔ میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی خاتون ماہر کا کہنا ہےکہ دماغ کے مختلف حصوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اس کے پٹھوں پر زور ڈال کر دماغی ورزش کریں جن میں معمے حل کرنا، نئی زبانیں سیکھنا، موسیقی کے نئے آلات بجانا اور جوکر کے کرتب تک شامل ہیں۔سیدھے بیٹھیں: گھر میں مہمانوں کی آمد پر والدین ہمیشہ بچوں پر زور دیتے ہیں

کہ سیدھے بیٹھو۔ سیدھے بیٹھنے سے جسم میں توانائی آتی ہے اور موڈ بہتر ہوتا ہے۔ یہ عمل خود اعتمادی کو بھی ظاہر کرتا ہے جو میں ہارورڈ کی ایک تحقیق سے بھی ثابت ہے۔ اگر بیٹھنے کا عمل بہت برا ہو تو یہ بے دلی اور عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے جس کا اثر دماغ پر بھی پڑتا ہے۔ ایک اور تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ درست انداز میں نہیں بیٹھتے وہ مایوس سوچ اور ڈپریشن کے شکار زیادہ ہوسکتے ہیں کیونکہ ہم اپنے رویئے کا 90 فیصد اظہار اپنی جسمانی پوزیشن اور حرکات سے کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر کا کہنا ہےکہ آپ کہیں بھی ہوں ہر گھنٹے بعد آپ اپنے بیٹھنے کا انداز چیک

Leave a Reply

Your email address will not be published.