کوئی بھی طالب علم لگاتار2دن سکول نہیں آئے گا تعلیمی اداروں کے نئے اوقات کار جاری کردئیے گئے

این این ایس نیوز! کوئی بھی طالب علم لگاتار 2 دن اسکول نہیں آئے گا،نرسری سے مڈل تک طالبات کے اوقات کار 7.15 سے 11.15 تک جب کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے اوقات کار 7.15 سے 11.45 تک ہوں گے،کلاسز کے دوران کوئی بریک نہیں ہو گی

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری کر دئیے۔نئے اوقات کار کا اطلاق پیر سے ہو گا۔تفصیلات کے مطابق سی ای او لاہور پرویز اختر نے اسکول کے نئے اوقار کار جاری کر دئیے ہیں۔جس کے تحت 50 فیصد طالب علم ایک دن میں اسکول حاضر ہوں گے اور کوئی بھی طالب علم لگاتار دو دن اسکول نہیں آئے گا۔

اوقات کار کے مطابق نرسری سے مڈل تک کی طالبات کی کلاسز کے اوقات کار 7.15 سے 11.15 تک ہوں گے جب کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے اوقات کار 7.15 سے 11.45 تک ہوں گے۔نرسری سے مڈل تک طلبا کے اسکول کے اوقات کار 7.30 سے 11.30 تک ہوں گے جب کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کی کلاسز 7.30 سے 12 بجے تک ہوں گی۔تاہم کلاسز کے دوران کوئی بریک نہیں ہو گی۔خیال رہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے 7 جون سے نجی وسرکاری سکول کھولنے کا اعلان کردیا ہے، نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ صوبے میں تمام سکولوں میں ہفتے میں 4 روز کلاسز ہوں گی، کلاسز میں 50 فیصد طلباء ایک دن اور 50 فیصد طلباء اگلے دن آئیں گے۔
اس طرح مجموعی طور پر 50 فیصد طلباء ہفتے میں کل 2 دن کلاسز میں حاضری دیں گے، کوئی طالب علم لگاتار دو دن کلاس میں نہیں آئے گا۔ مزید بتایا گیا کہ متعلقہ حکام سکولوں میں ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔گزشتہ روز وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے سوموار7 جون سے یونیورسٹیاں کھولنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے کہا کہ سوموار سے تمام جامعات کو تدریسی سرگرمیوں کیلئے کھولنے کی اجازت ہے، تعلیمی اداروں میں ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

وزیرتعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات، تعلیمی اداروں کی بندش اور اوپنگ سے متعلق سارے فیصلے بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس میں متفقہ طور پرہوئے ہیں، پچھلے سال جب ہم نے تجربہ کیا کہ جب بچے بغیر امتحان پاس کیے تو تجربہ ہوا، فیصلہ کیا کہ گریڈ امتحانات کے بغیر نہیں ملیں گے۔ یہ تجربہ ہوا کہ سب سے فیئر ٹیسٹ امتحانات کے ذریعے ہے۔

ایکسٹرنل امتحانات پر لوگ اعتراض نہیں کرتے، کیونکہ یہ امتحان سب کیلئے برابر ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں طلباء کی اکثریت یہ ہے کہ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے پڑھتے ہیں۔ اس لیے امتحانات نہ لینے کا مطلب جو پڑھائی ہورہی ہے وہ بھی نہیں ہوگی۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ رواں سال امتحانات ضرور ہوں گے۔ آج میٹنگ میں مشورہ کیا کہ طلباء کی ایک بات درست ہے اس کو ماننا چاہیے، طلباء کا سکول بند ہونے کے باعث کورس ورک مکمل نہیں ہوسکا، طلباء کی یہ شکایت درست ہے، اسی سلسلے میں ہم نے کئی ماہ قبل فیصلہ کیا کہ جس کے تحت سلیبس کو 40 فیصد کم کردیا تھا ، فیصلہ کیا ہے کہ نویں دسویں کا امتحان اختیاری مضامین میں ہوگا، اور چار مضامین کا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.